Chahtain Jo Bhi Yar Rakhte Hen - چاہتیں جو بھی یار رکھتے ہیں
چاہتیں جو بھی یار رکھتے ہیں
شاہ بطحاء پہ وار رکھتے ہیں
حکمِ یزداں نہیں ملا جب تک
لعلِ زہرا سوار رکھتے ہیں
نسبتِ فقر کا تقاضا ہے
سادہ طرز و شعار رکھتے ہیں
وقت کے مرحبوں یزیدوں پر
حیدری ذوالفقار رکھتے ہیں
مال و زر کی ہوس نہ دنیا کی
تیری نسبت سے پیار رکھتے ہیں
خواہشیں جو بھی ہیں زمانے کی
تیرے جوڑوں پہ وار رکھتے ہیں
وقف کر دیں گے جو میسر ہے
نسبتِ یارِ غار رکھتے ہیں
ذکر ہر دم زباں پہ جاری ہو
یوں چمن میں بہار رکھتے ہیں
اے حسن موت سے محبت ہو
زندگی یوں گزار رکھتے ہیں
جنید حسن
Comments
Post a Comment