Din Hamaray Guzar Hi Jain Gay - دن ہمارے گزر ہی جائیں گے
جاؤ تم عہد کو نبھائیں گے
ہم ابھی جان سے نہ جائیں گے
چاند سے کہہ دیا ہے مت نکلے
آج وہ زلف کو ہٹائیں گے
آئیں گے جب وہ بے حجابانہ
ہم نظر کس طرح ملائیں گے
پھر کبھی نام بھی نہ لے گا دل
ہم تجھے اس طرح بھلائیں گے
تیری محفل حسِین تر ہو گی
ہم مگر بزم میں نہ آئیں گے
اے حسَن تشنگی سہی لیکن
دن ہمارے گزر ہی جائیں گے
جنید حسَن
Comments
Post a Comment