Magar Mujhe Muhabbat Thi - مگر مجھے محبت تھی

 مجھے ترے تعلق کی، ہوس نہیں مودت تھی

تجھے لگا ضرورت ہے، مگر مجھے محبت تھی


فراق دے تو غم کیسا، وصال دے تری مرضی

رضا جہاں جہاں تیری، وہیں مری مسرت تھی


جہاں ترا نشاں دیکھا، وہیں جما لیے ڈیرے

ترے عمل کی ہر نسبت، مرے لیے عقیدت تھی


یہ حکم تھا ترا مولا، تو مجھ کو آزمائے گا

غموں میں مسکرا دینا، مرے لیے عبادت تھی


ابھی تو آگئے ہو تم، مرے لیے میسر ہو

کہاں چلے گئے تھے جب، مجھے تری ضرورت تھی


کہیں ہوس ہے دنیا کی، کہیں طلب ہے زن و زر

کیا ہوا زمانے کو، کیا یہی حقیقت تھی؟


ہے معرکہ بپا ہر سو، سبھی یہاں سپاہی ہیں

اٹھا قلم، اذاں دیدے، یہی تری شہادت تھی


جواں سمجھ حقیقت کو، نہیں ترا نشیمن یہ

بھٹک نہ اور دنیا میں، یہی مری نصیحت تھی


جفا کے تیر کھا کر بھی، لبوں پہ مسکراہٹ تھی

حسن کسی کی فطرت میں، کمال کی مروت تھی


جنید حسن

Comments

Popular posts from this blog

Dunya Ghumman Gheri Beiba - دنیا گھمن گھیری بیبا

Intehai Sakoon Me Kamal Me Guzra - انتہائی سکوں میں کمال میں گزرا

Chahtain Jo Bhi Yar Rakhte Hen - چاہتیں جو بھی یار رکھتے ہیں